دو چار گھڑی
قسم کلام: اسم ظرف زمان
معنی
١ - چند ساعتیں، کچھ دیر، کچھ گھنٹے۔ "دو چار گھڑی پاس بیٹھ کر ہنس بول کے معلوم نہیں کہاں چلا جاتا ہے۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ١٧ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ مرکب 'دو چار' کے بعد ہندی سے ماخوذ اسم 'گھڑی' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٥٠ء سے "دیوان ذوق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چند ساعتیں، کچھ دیر، کچھ گھنٹے۔ "دو چار گھڑی پاس بیٹھ کر ہنس بول کے معلوم نہیں کہاں چلا جاتا ہے۔" ( ١٨٩٠ء، فسانۂ دلفریب، ١٧ )
جنس: مؤنث